تاریخ: پیر‬‮   11   دسمبر‬‮   2017

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کون ہیں؟


جسٹس شوکت عزیز صدیقی گزشتہ چھ سال سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جج کی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ اُنھیں 21 نومبر سنہ 2011 کو صوبہ پنجاب کے کوٹے سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پہلے ایڈیشنل جج تعینات کیا گیا اور پھر اُنھیں مستقل جج مقرر کردیا گیا۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی اس وقت میڈیا میں خبروں کی زینت بننا شروع ہوئے جب اُنھوں نے وفاقی دارالحکومت میں قائم افغان بستیوں کو گرانے میں

ناکامی اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے پر وفاقی ترقیاتی ادارے یعنی سی ڈی اے کے حکام کو جیل بھجوایا۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف 3نومبر سنہ 2007 میں ملک میں ایمرجنسی کے بعد ججز کو نظر بند کرنے کے مقدمے میں پولیس حکام کو انسداد دہشت گردی کی دفعات کا اضافہ کرنے کا بھی حکم دیا جب پرویز مشرف ضمانت کے لیے ان کی عدالت میں پیش ہوئے تھے۔عدالتی احکامات کے بعد سابق فوجی صدر کمرہ عدالت سے فرار ہوگئے تھے بعدازاں پولیس نے اُنھیں حراست میں لے کر متعلقہ عدالت میں پیش کیا تھا۔سابق فوجی صدر کی طرف سے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد وکلا کی عدلیہ بحالی تحریک میں بھی شوکت عزیز صدیقی پیش پیش تھے۔ راولپنڈی پولیس کے مطابق اُنھیں اس وقت کی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے پر گرفتار بھی کیا گیا تھا۔شوکت عزیز صدیقی ان چند وکلا رہنماؤں میں سے تھے جنہیں اس وقت کے پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی قربت حاصل تھی۔شوکت عزیز صدیقی جو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے بعد سنیئر ترین جج ہیں، نے سوشل میڈیا پر پیغمبر اسلام کے بارے میں گستاخانہ مواد کا نوٹس بھی لیا تھا۔سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ایف آئی اے کو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔ عدالتی حکم کے بعد ہی فیس بک کی انتظامیہ نے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور یقین دہانی کروائی تھی کہ آئندہ فیس بک پر پیغمبر اسلام کے بارے میں گستاخانہ مواد نہیں لگایا

جائے گا۔شکرپڑیاں کے قریب پریڈ گراونڈ کو ’ڈیموکریسی پارک‘ اور ’سپیچ کارنر‘ کا نام بھی اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے حکم پر ہی رکھا ہے۔ اس گراونڈ پر پاکستانی افواج اپنی سالانہ پریڈ کرتی ہیں۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ہی حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کو گزشتہ سال اسلام آباد کو لاک ڈون کرنے کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہویے اُنھیں دھرنا دینے سے روک دیا تھا۔شوکت عزیز صدیقی کو جب اسلام آباد ہائی کورٹ میں جج تعینات کیا گیا تو اس وقت افتخار محمد چوہدری پاکستان کے چیف جسٹس تھے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کی ویب ساییٹ پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2011میں جب اُنھیں ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج بنانے کے بارے میں غور کیا گیا تو وہ اس وقت راولپنڈی اور اسلام آباد کے چند مصروف ترین وکلا میں سے ایک تھے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس محمد انور خان کاسی کی سپریم کورٹ میں چلے جانے یا ریٹائرمنٹ کی صورت میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہوں گے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف ایک ریفرنس سپریم جوڈیشل

کونسل میں زیر سماعت ہے۔ ان پر الزام لگایا گیا تھا کہ اُنھوں نے سی ڈی اے کے حکام پر اپنی سرکاری رہائش گاہ کی تزین و آرائش کے لیے دباو ڈالا تھا۔جسٹس شوکت عزیز نے ان کے خلاف ریفرنس کی سماعت کو بندکمرے میں کرنے کی بجائے اوپن کورٹ میں کرنے کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی تھی جسے عدالت عظمی نے مسترد کردیا۔

Loading...




انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مین
loading...




اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین خبریں
عمران خان کا امپائر بوڑھا ہو چکا ہے، اب انہیں پتہ لگے گا، کیپٹن (ر) صفدر
حدیبیہ کیس؛ سماعت ملتوی کرنے کی نیب درخواست مسترد
وفا قی پولیس نے مختلف کا رروائیوں کے دوران دو عورتو ں سمیت 19 ملزمان کو گرفتار کر لیا ایم کیوایم لندن کی خواتین کی یادگار شہدا جانے کی کوشش پولیس نے ناکام بنادی
پاکستان اور برطانیہ کے اچھے تعلقات پر فخر ہے، میئر لندن
طاہرالقادری جب سڑکوں پر نکلیں گے تو ان کے ساتھ ہوں گے، عمران خان
وفاقی دارالحکومت میںدہشتگردوں کا خوفناک حملہ

تازہ ترین ویڈیو
پاکستان کی اہم سیاسی شخصیت بیرون ملک حسینائوں کا رقص دیکھتے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے
روس میں چرچ کی عمارت مسجد میں تبدیل
یہ جن ہیں یا انسان؟ پاکستان کی سپیشل فورس بارڈر ایکشن ٹیم سے بھارتی کس قدر خوفزدہ ہیں؟ جان کر آپکو آئی ایس آئی اور ایس ایس جی پر فخر ہو گا
ہم پاکستان سے جنگ نہیں کر سکتے کیونکہ ہماری ٹیکنالوجی اس قابل نہیں کہ۔۔۔
اب آپ موٹرسائیکل کو بھی بھول جائیں گے، پاکستان میں تیار ہونیوالی انتہائی سستی گاڑی متعارف۔ قیمت اتنی کہ ہر کوئی خرید سکے گا
سعودی کا کھرب پتی شہزادے ولید بن طلال کون ہے ؟ انکی گرفتاری کے بعد پوری دنیا میں ہلچل ۔۔ پاکستانی میڈیا کی خصوصی رپورٹ

Copyright © 2016 Naye Khabar. All Rights Reserved